اک دل ہے پاس وہ بھی نہیں اختیار میں
پہلی تضمینی غزل ▫️
*افسوس یہ ہے عالمِ ناپائیدار میں*
*"اک دل ہے پاس وہ بھی نہیں اختیار میں"*
*اپنا بنا کے لوٹ لیا گل عذار نے*
*"اک دل ہے پاس وہ بھی نہیں اختیار میں"*
*لگتا ہے میری ذات ہے تیرے حصار میں*
*"اک دل ہے پاس وہ بھی نہیں اختیار میں "*
*اپنے تو ہاتھ پیار میں کچھ بھی نہیں لگا*
*"اک دل ہے پاس وہ بھی نہیں اختیار میں"*
*کس نے کہا کہ ہم پہ ہمارا ہے اختیار*
*" اک دل ہے پاس وہ بھی نہیں اختیار میں "*
*نادر فریبِ ہستی کی شوخی تو دیکھیے*
*اک دل ہے پاس وہ بھی نہیں اختیار میں*
نادر بھوپالی
Reyaan
17-Apr-2022 09:48 PM
Very nice 👍🏼
Reply
Renu
16-Apr-2022 12:01 PM
شاندار
Reply
Gunjan Kamal
16-Apr-2022 11:18 AM
Very nice 👌
Reply